حجۃ الوداع — یومِ ترویہ
یومِ ترویہ کو نبی کریم ﷺ اپنے ایک لاکھ صحابہ کے ساتھ اپنے واحد حج میں مکہ سے منیٰ کی طرف روانہ ہوئے، جس میں آپ نے امت کو اُس کے مناسک سکھائے اور فرمایا: "مجھ سے اپنے مناسک لے لو"، اور اُس میں امت کو الوداع کہا۔
نبی کریم ﷺ نے اپنے حج کا اعلان کیا تو لوگ ہر طرف سے مدینہ امنڈ آئے، اور آپ اواخرِ ذوالقعدہ 10ھ میں اُن کے ساتھ نکلے، یہاں تک کہ جب ذوالحجہ کی آٹھ تاریخ — یومِ ترویہ — آئی تو آپ اپنے ساتھیوں سمیت مکہ سے منیٰ گئے، وہاں پانچوں نمازیں پڑھیں اور رات گزاری۔
آپ کے ساتھ قریباً ایک لاکھ یا زائد تھے، سب آپ کی ہر حرکت و سکون میں اقتدا کرتے، آپ کے تلبیہ اور نسک کو دیکھتے، اور آپ فرماتے: "مجھ سے اپنے مناسک لے لو، شاید میں اپنے اِس سال کے بعد تم سے نہ ملوں"، تو یہ بلاغ، تعلیم اور وداع کا حج تھا۔
آپ ﷺ نے وہ مناسک ترتیب دیے جن پر مسلمان آج تک ہیں: منیٰ، پھر عرفہ، پھر مزدلفہ، رمیِ جمار، قربانی اور طواف، اور آپ سوال و جواب کرتے کھڑے رہے: "کر لو، کوئی حرج نہیں"، تو آپ کا حج قیامت تک ہر حاجی کے لیے لازوال نمونہ رہا۔