ہجری تقویم کا اعتماد
امیر المؤمنین عمر بن الخطاب رضی اللہ عنہ کے دورِ خلافت میں صحابہ کرام جمع ہوئے تاکہ اسلامی ریاست کے لیے ایک متفقہ نظامِ تاریخ طے کریں۔ رائے اس پر جمی کہ نبی کریم ﷺ کی ہجرت کو تاریخ کا مبدأ بنایا جائے، اور محرم کو سال کا پہلا مہینہ قرار دیا گیا۔
جب عمر بن الخطاب رضی اللہ عنہ کے عہد میں اسلامی ریاست وسیع ہوئی اور صوبوں کے درمیان خط و کتابت بڑھی، تو آپ کے پاس ایسے خطوط آئے جن پر کوئی تاریخ درج نہ تھی۔ چنانچہ آپ نے بڑے صحابہ کو جمع کیا تاکہ ایسا مبدأِ تاریخ مقرر کریں جس سے اعمال اور عہد و پیمان ضبط ہو سکیں۔
تجاویز مختلف تھیں: کسی نے نبی کریم ﷺ کی ولادت سے تاریخ کی رائے دی اور کسی نے بعثت سے۔ علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ نے ہجرت سے تاریخ مقرر کرنے کی رائے دی، کیونکہ اسی نے حق و باطل میں فرق کیا اور مسلمانوں کی ریاست قائم کی — چنانچہ عمر رضی اللہ عنہ نے یہی رائے اختیار کی۔
اور اس بات پر اتفاق ہوا کہ محرم سال کا آغاز ہو، کیونکہ اسی میں لوگ اپنے حج سے لوٹتے ہیں۔ اسی وقت سے ہجری تقویم امت کا کیلنڈر بن گیا، جس سے وہ آج تک اپنی عبادات اور مناسبتیں ضبط کرتی ہے۔
تنبیہ — تاریخ میں اختلاف: مشہور یہی ہے کہ یہ 17ھ میں ہوا، اور 16ھ بھی مروی ہے۔ یہاں اسے محرم کے آغاز میں رکھا گیا ہے کیونکہ وہی اُس سال کا پہلا مہینہ ہے جسے مبدأِ تاریخ بنایا گیا۔