بئرِ معونہ کا سانحہ
عامر بن الطفیل اور اُس کے ساتھیوں نے صحابہ قرّاء میں سے اُن ستر افراد سے دغا کی جنہیں نبی کریم ﷺ نے اہلِ نجد کو قرآن سکھانے بھیجا تھا۔ ایک کے سوا سب شہید کر دیے گئے، اور نبی کریم ﷺ نے سخت غم منایا اور ایک ماہ اُن کے قاتلوں پر بددعا کی۔
ابو براء عامر بن مالک نبی کریم ﷺ کے پاس آئے اور درخواست کی کہ آپ کچھ آدمی بھیجیں جو اہلِ نجد کو اسلام کی دعوت دیں، اور اُن کے لیے اپنی پناہ کی ضمانت دی۔ چنانچہ آپ ﷺ نے اپنے بہترین صحابہ میں سے ستر قرّاء بھیجے جو دن میں لکڑیاں چنتے اور رات میں قرآن کا مذاکرہ کرتے تھے۔
جب وہ بئرِ معونہ پر اترے تو عامر بن الطفیل نے اُن کے خلاف بنو سُلیم کے قبائل — عُصیہ، رِعل اور ذکوان — کو بھڑکا دیا، جنہوں نے قرّاء کو گھیر کر آخری فرد تک قتل کر دیا، سوائے کعب بن زید کے جو زخمی ہو کر مقتولین میں پڑے رہے، اور عمرو بن امیہ کے جو رہا کر دیے گئے۔
جب نبی کریم ﷺ کو خبر پہنچی تو آپ نے اُن پر ایسا غم منایا جو کسی سریہ پر نہ منایا تھا، اور فجر کی نماز میں پورا ایک ماہ رِعل، ذکوان اور عُصیہ پر قنوت کرتے رہے جنہوں نے اللہ اور اُس کے رسول کی نافرمانی کی، جیسا کہ صحیحین میں ثابت ہے۔
تنبیہ — تاریخ میں اختلاف: اہلِ سیر کے اتفاق سے یہ صفر 4ھ میں ہوا، اُس کے دن کی قطعی تعیین کے بغیر۔